وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا وفاقی حکومت کے لیے "ناگزیر" تھا، کیونکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون سے مسلسل گریزاں رہی۔
گوجرانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر خونریزی اور امن و امان کی خرابی کا خدشہ تھا، اور حکومت چپ رہ کر جانوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس "کوئی اور راستہ" نہیں بچا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے کئی دور ہوئے، یہاں تک کہ ایک مسودہ بھی تیار ہوا جس کے تحت پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی کال واپس لینا تھی، لیکن معاہدہ نہ ہو سکا۔ اس لیے "آخری کوشش" کے طور پر یہ قدم اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود صوبے کی سابقہ قیادت سے کئی ملاقاتیں کیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کی پارلیمنٹ نے بھی توثیق کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتی ہے۔



0 تبصرے