کیا گیا ہے۔ یہ جہاز قطر سے مائع گیس لے کر پاکستان کی جانب روانہ تھا۔ حملے کے بعد جہاز نے راستہ بدل کر خلیج فارس کی طرف واپس رُخ کر لیا ہے۔
جہاز کی مالک کمپنی کے مطابق حملہ جمعہ 30 اکتوبر کی شام کو ہوا، عملے کے تمام پچیس ارکان محفوظ ہیں اور ماحول کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ قطر کی وزارت خارجہ نے یکم نومبر کو حملے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ جہاز کی حالت محفوظ اور آپریشنل بتائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس جہاز کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایرانی حکام سے بات چیت کی تھی اور حملے سے چند گھنٹے قبل ایران کی جانب سے گزرنے کی منظوری بھی مل گئی تھی، تاہم پھر بھی جہاز نشانہ بن گیا۔ یہ واضح نہیں کہ جہاز اپنی گیس کی ترسیل کب اور کیسے مکمل کرے گا۔ سردیوں کے موسم میں پاکستان کو گیس کی فراہمی پہلے ہی دباؤ میں ہے اور اس واقعے سے سپلائی کی صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔



0 تبصرے