ہو گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق نیا طریقہ کار صرف پیٹرول یعنی موٹر اسپرٹ پر لاگو ہوگا۔
نئے فارمولے کے تحت درآمدی پیٹرول کی قیمت پاکستان اسٹیٹ آئل کے متعلقہ جہاز کی اصل درآمدی لاگت کی بنیاد پر طے ہوگی۔ اگر روزانہ قیمت کے وقت اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب جہاز کے پریمیم، اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کو بنیاد بنایا جائے گا۔ مقامی ریفائنریز کے لیے عارضی طور پر تیس دن کا انتظام کیا گیا ہے جس میں پریمیم اور کسٹم ڈیوٹی سات مارچ دو ہزار چھبیس کی جنگ سے قبل کی سطح پر منجمد رہیں گے۔
حکومت کے مطابق درآمدی قیمت اور مقامی ریفائنری قیمت کے فرق کی رقم ریفائنریز پیٹرولیم لیوی کے اکاؤنٹ میں جمع کرائیں گی اور اس کا فائدہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں صارفین تک پہنچایا جائے گا۔ ریفائنریز کا کہنا ہے کہ اس سے ان پر فی لیٹر تقریباً انچاس روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔



0 تبصرے