سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پٹلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ کے واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ فراز کرکٹ گراؤنڈ ڈسکہ روڈ پر اکتیس اکتوبر کی رات منعقدہ تقریب میں کار اور موٹر سائیکل کی انعامی قرعہ اندازی کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر بڑی تعداد میں لوگ باہر جمع ہو گئے۔ گیٹ وقت سے پہلے کھلتے ہی دھکم پیل مچ گئی، جس میں 30 سالہ عقیل نامی نوجوان جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زخمیوں میں شامل ریحان ارشد (ساکن گلوٹیاں موڑ) بھی لاہور میں دم توڑ گیا، جس سے جاں بحق افراد کی تعداد دو ہو گئی ہے۔
پولیس کے مطابق نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں ٹک ٹاکر محمد انس جٹ، گراؤنڈ کا مالک اور منتظمین شامل ہیں، جبکہ 40 سے 45 نامعلوم سیکورٹی گارڈز بھی نامزد ہیں۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات اور مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ سولہ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق کے مطابق تقریب کی اجازت اکتیس اکتوبر سے سات نومبر تک دی گئی تھی لیکن منتظمین نے مقررہ وقت سے پہلے تقریب شروع کر دی۔ واقعے کے بعد انتظامیہ نے باقی شادی کی تقریبات کی اجازت بھی واپس لے لی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حفاظتی انتظامات اور اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی جاری رہے گی۔



0 تبصرے