مفاہمت نامے" پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کا مقصد دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی اور فوجی تربیت میں چاروں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ دستخط کی تقریب میں پاکستان کی طرف سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، ترکی کے وزیر دفاع یاشار گلر، قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع برائے مملکت شیخ سعود بن عبدالرحمان الثانی اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری شریک ہوئے۔ ترکی کی دفاعی صنعتوں کے سربراہ حلوک گورگن بھی تقریب میں موجود تھے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چاروں ملک اپنی دفاعی صنعتوں کی صلاحیتیں جوڑ کر مشترکہ پیداوار، تکنیکی تربیت اور تحقیق و ترقی پر کام کریں گے اور بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کریں گے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ "قابلِ اعتماد شراکت داروں" کے ساتھ کام کرنے سے خود انحصاری بڑھے گی اور علاقائی امن و استحکام میں مدد ملے گی۔ اس معاہدے میں طے شدہ معیار کے تحت دیگر دوست ملک بھی شامل ہو سکیں گے



0 تبصرے