ایک نئے تجزیے کے مطابق پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو عالمی غذائی بحران کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ 47 ممالک اور علاقوں کے 26 کروڑ 60 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں، جو دس سال پہلے کی تعداد سے تقریباً دوگنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد میں سے تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ یعنی دو تہائی، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نائجیریا، کانگو، سوڈان، یمن، میانمار، جنوبی سوڈان اور شام میں ہیں۔
پاکستان میں اعتدال پسند یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار گھرانوں کی شرح 2018-19 میں 15.92 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 24.35 فیصد ہو گئی، یعنی تقریباً ہر چار میں سے ایک گھرانہ متاثر ہے۔ شدید غذائی عدم تحفظ دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 2.37 سے 5.04 فیصد ہو گیا۔
رپورٹ میں معاشی دباؤ، موسمیاتی جھٹکوں اور امداد تک رسائی میں کمی کو صورتحال کی خرابی کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گندم، چاول، دالوں، گوشت، انڈوں اور دودھ سمیت بنیادی خوراک کی فی کس کھپت میں بھی کمی آئی ہے۔



0 تبصرے