پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی بندش کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، اور تاجر تنظیموں کے تخمینوں کے مطابق اس دوران 2.5 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت متاثر ہوئی ہے۔ تجارت اکتوبر 2025 میں سرحد پر مہلک جھڑپوں کے بعد معطل ہوئی تھی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ حملے افغانستان میں مقیم جنگجو کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحدی گذرگاہوں کی بندش سے سامان پھنس گیا، فروخت متاثر ہوئی اور برآمد کنندگان کو وسطی ایشیا کے لیے لمبے اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنا پڑے۔ دوا ساز صنعت کو خاص نقصان ہوا، جس کے لیے افغانستان سب سے بڑی برآمدی منڈی تھا۔ پولٹری کی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد حصہ پہلے افغانستان بھیجا جاتا تھا، جو اب تقریباً صفر ہو گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز 42 ہزار سے کم ہو کر ساڑھے 11 ہزار رہ گئے ہیں۔ طورخم کے تاجروں کے مطابق صرف اس گذرگاہ کی بندش سے 380 سے 400 ارب روپے کا نقصان ہوا اور ہزاروں مزدور، ٹرانسپورٹر اور دکان دار روزگار سے محروم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق سرحدی تجارت کا تعطل پاکستان کے وسطی ایشیا کے بازاروں تک رسائی کو بھی محدود کر رہا ہے۔



0 تبصرے