عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین "پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ" رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان ساختی اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کرے تو 2050 تک ملکی آمدنی تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 26 میں معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ پچھلے سال یہ 3.2 فیصد تھی، اور 2.9 فیصد کا ریکارڈ بنیادی مالیاتی سرپلس بھی حاصل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق مضبوط ترسیلاتِ زر سے زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بحال ہوئے، دو بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی، اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے اجرا سے پاکستان عالمی قرض بازار میں واپس آیا۔ تاہم فی کس حقیقی آمدنی کی نمو ابھی بھی 1.6 فیصد کے آس پاس اٹکی ہوئی ہے، جسے تیز کرنے کے لیے مزید گہرے اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے استحکام کی بحالی میں حقیقی پیش رفت کی ہے، لیکن آمدنی بڑھانے کی رفتار تیز کرنے کے لیے اصلاحات اب ناگزیر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان اپنی پالیسیوں اور اداروں کا معیار اوسط درمیانی آمدنی والے ملکوں کے برابر کر لے تو سالانہ 6.2 سے 6.9 فیصد کی مستحکم نمو حاصل ہو سکتی ہے، جس سے 2050 تک پاکستان ویتنام کی موجودہ آمدنی کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔



0 تبصرے