روس اور یوکرین کے درمیان جنوبی یوکرین کے قصبے اولیشکی میں انسانی بنیادوں پر عارضی جنگ بندی کا تیسرا دن ہے، جس کا مقصد پھنسے ہوئے شہریوں تک خوراک، ادویات اور پانی پہنچانا اور انخلا کی راہ ہموار کرنا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے ابھی تک کسی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں دی گئی۔
جنگ بندی 27 اکتوبر کو نافذ ہوئی اور یہ یکم نومبر تک مخصوص راستوں تک محدود رہے گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق قصبے میں تقریباً 1700 سے 2000 افراد پھنسے ہوئے ہیں، جن میں تقریباً 50 بچے بھی شامل ہیں۔
اس معاہدے میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے کردار کو وائٹ ہاؤس نے نمایاں کیا ہے۔ راستوں پر بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام جاری ہے اور امدادی قافلے جلد روانہ ہونے کی توقع ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ انتظام محدود اور نازک ہے اور لڑائی دیگر علاقوں میں جاری ہے۔



0 تبصرے