امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے اپنی دوسری مدت کے آغاز سے اب تک 3 لاکھ سے زائد امریکی ویزے منسوخ کیے ہیں۔ جنوری 2025 میں یہ تعداد ایک لاکھ سے زائد اور اگست میں ایک لاکھ 75 ہزار تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں منسوخی کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگٹ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تاریخ میں کسی بھی انتظامیہ سے تیز رفتار پر ویزے منسوخ کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون توڑنے والوں، فراڈ کرنے والوں اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والوں کے لیے کوئی نرمی نہیں۔ حکام کے مطابق منسوخی کی وجوہات میں جرائم، عوامی سلامتی کے خدشات، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور فراڈ شامل ہیں، جب کہ 4 ہزار سے زائد برتھ ٹورازم ویزے بھی منسوخ کیے گئے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس سے منصفانہ عدالتی کارروائی اور اظہار رائے کی آزادی متاثر ہوئی ہے، اور نسلی اقلیتوں کے خلاف نسلی جانبداری کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ کارکنوں نے فلسطین حامی مظاہرین اور سوشل میڈیا پر تبصروں پر ویزوں کی منسوخی کو بھی متنازع قرار دیا ہے۔



0 تبصرے