یوکرین نے جمعرات کو روس کے ریازن علاقے میں روس نیفٹ کی تیل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ریفائنری میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ریازن کے گورنر پاول مالکوف نے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کے بعد ریفائنری میں آگ لگنے کی تصدیق کی ہے۔ یہ ریفائنری روس کی تیل صاف کرنے کی مجموعی صلاحیت کا تقریباً پانچ فیصد حصہ رکھتی ہے۔
حملے سے قبل یوکرین کے صدر زیلینسکی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا صبر جواب دے چکا ہے اور توانائی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو نے اپنی جانب سے یوکرینی توانائی کے ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ یوکرین نے امریکی صدر کی اپیل پر توانائی تنصیبات پر حملوں میں تین دن کا وقفہ کیا تھا، لیکن کیف کا موقف ہے کہ روس نے اس دوران اپنے حملے نہیں روکے۔ کریملن نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے کبھی ریفائنریوں پر حملے بند نہیں کیے تھے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔




0 تبصرے