پاکستان اور افغانستان کے وزرائے دفاع ہفتے کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سرحدی کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے لیے اکٹھے ہوئے۔ یہ مذاکرات جمعہ کو افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد ہو رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ کارروائی میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے کمپاؤنڈ پر حملے کے جواب میں کی گئی۔ دوسری جانب افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں عام شہری مارے گئے، جن میں کرکٹ کھیلنے والے تین کھلاڑی بھی شامل ہیں۔
افغان حکام نے فضائی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جواب کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشیدگی نہیں چاہتا لیکن دہشت گرد گروپوں کے خلاف "قابل تصدیق کارروائی" کا مطالبہ کرتا ہے۔
مذاکرات قطر کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، اور علاقائی طاقتیں بھی دونوں ملکوں سے صبر و تحمل کی اپیل کر رہی ہیں۔ تاحال کسی معاہدے کی اطلاع نہیں ملی۔



0 تبصرے